
سلطانواس کے نسیم خان
بڑے زمیندار، تعلیم یافتہ بزرگ، جرگہ رہنما اور ایک نہایت بااثر شخصیت جن کے تعلقات بونیر سے اٹک تک، حکومتی اداروں اور علما تک پھیلے ہوئے تھے۔
سلطانواس کے ایک بنیادی بزرگ
نسیم خان اس نسل سے تعلق رکھتے تھے جس میں قیادت ذاتی کردار، زمین کی ذمہ داری، بہادری اور خدمت سے قائم ہوتی تھی۔ وہ صرف دولت مند زمیندار نہیں بلکہ گاؤں کے اہم فیصلوں میں مرکزی بزرگ سمجھے جاتے تھے۔
لوگ جرگہ، زمین کے تنازع، عدالت، سرکاری کام یا اجتماعی مسئلے کے وقت ان سے رجوع کرتے تھے۔
بمبئی میں تعلیم اور تجربہ
انہوں نے بمبئی، موجودہ ممبئی، میں تعلیم اور وسیع تجربہ حاصل کیا۔ وہاں اپنے علاقے کے محنت کشوں اور لوگوں میں بھی ان کی عزت تھی۔
واپسی پر یہی تجربہ انہیں سرکاری افسران اور دور دراز اداروں سے مؤثر رابطے میں مدد دیتا تھا۔
جرگہ قیادت اور عوامی خدمت
نسیم خان گاؤں کے جرگوں کی قیادت، زمین و ذاتی تنازعات کے حل اور عدالت و حکومت سے متعلق امور کی ذمہ داری اٹھاتے تھے۔ مقامی کونسلروں اور سرکاری حلقوں سے ان کے اچھے تعلقات تھے۔
ان کے دوست اور تعلقات بونیر سے اٹک تک پھیلے ہوئے تھے، جو مشکل وقت میں گاؤں کے لوگوں کے لیے سہارا بنتے تھے۔
ان کا اثر اس ذمہ داری سے ناپا جاتا تھا جو وہ دوسروں کے لیے قبول کرتے تھے۔
ضمانت، پناہ اور مزید خونریزی کی روک تھام
پرانے دور میں زمین، ذاتی دشمنی یا غلط فہمی سے بعض اوقات جان لیوا واقعات پیش آ جاتے تھے۔ نسیم خان ایسے معاملات میں ضامن اور ثالث کے طور پر سامنے آتے تھے۔
کسی کو عارضی پناہ، ضمانت یا رہنے کی جگہ دینا جرم کی حمایت نہیں تھا؛ مقصد انتقام کو روکنا، فرد کو ذمہ داری کے دائرے میں لانا اور جرگے یا قانون کو کام کرنے کا وقت دینا تھا۔
دینی مزاج اور علما سے تعلق
وہ دینی مزاج رکھتے تھے اور علما و اہلِ علم سے احترام کا تعلق رکھتے تھے۔ ان کی قیادت میں پشتون روایات، اخلاقی ذمہ داری اور مذہبی رہنمائی یکجا نظر آتی تھی۔
دولت بطور ذمہ داری
وہ اپنے وقت کے لحاظ سے بہت دولت مند اور بڑے زمیندار تھے، مگر خاندان انہیں زیادہ تر مہمان نوازی، مدد، ضمانت اور اجتماعی خدمت کے لیے یاد کرتا ہے۔
وفات اور یاد
نسیم خان رمضان 1973 میں عید سے ایک دن پہلے وفات پا گئے۔ پیدائش کا درست سال محفوظ نہیں، تاہم خاندانی اندازہ 1897 سے 1900 کے درمیان ہے۔
خاندان انہیں شہید کے احترام سے یاد کرتا ہے۔ ان کی میراث ان کی اولاد کی عوامی خدمت، ثالثی، زمین سے وابستگی اور سلطانواس کے دفاع میں جاری رہی۔
یہ ریکارڈ سلطانواس کے خاندانی اور اجتماعی آرکائیو کا حصہ ہے۔