
سلطانواس، بونیر کے جہان زیب خان
ایک سینئر بزرگ جنہیں عبدالرشید خان کے ساتھ مل کر مقامی قومی لشکر کی تشکیل و تنظیم، پولیس کے ساتھ اجتماعی دفاع کے تعاون اور جنگ و نقل مکانی کے دوران خاندانی و دیہی تسلسل کے لیے یاد کیا جاتا ہے۔
دفاع اور تسلسل میں قیادت
جہان زیب خان کو سلطانواس کے خاندانی اور مقامی زبانی تاریخی ریکارڈ میں ان بزرگ شخصیات میں شمار کیا جاتا ہے جنہوں نے 2009 کے بحران کے دوران گاؤں کی اجتماعی تیاری اور جواب میں اہم کردار ادا کیا۔
ان کی قیادت بزرگ ہونے، اعتماد، زمین، مشاورت اور لوگوں کو جمع کرنے کی صلاحیت پر قائم تھی، اور یہی اوصاف بحران کے وقت سب سے زیادہ کارآمد ثابت ہوئے۔
مقامی قومی لشکر کی تشکیل
فراہم کردہ خاندانی روایت کے مطابق جہان زیب خان اور ان کے چھوٹے بھائی عبدالرشید خان دونوں مقامی قومی لشکر کی تشکیل اور تنظیم میں اہم طور پر شامل تھے۔
جہان زیب خان نے جرگہ، بزرگوں، رضاکاروں اور رہائشیوں کو منظم کیا، جبکہ عبدالرشید خان فعال دفاع، عوامی مزاحمت اور بعد کی شناخت سے زیادہ وابستہ رہے۔ دونوں کے کرداروں نے مل کر گاؤں کے دفاعی ردِعمل کو زیادہ منظم بنایا۔
سلطانواس کے قومی لشکر کو ایک مشترکہ دیہی و خاندانی کوشش کے طور پر سمجھنا زیادہ درست ہے، جس میں جہان زیب خان اور عبدالرشید خان دونوں کے اہم کردار تھے۔
پولیس کے ساتھ تعاون اور وسیع تر مزاحمت
اس تنظیمی کوشش میں راستوں کی نگرانی، گھروں کے درمیان رابطہ اور مقامی رضاکاروں کی شمولیت شامل تھی۔ پولیس اہلکاروں اور دیگر طالبان مخالف عناصر نے اس مقامی نظام کے ساتھ تعاون کیا اور یہ وسیع تر قومی لشکر کا حصہ بن گیا۔
یہ تعاون اس بات کی علامت تھا کہ مزاحمت طالبان کے غلبے کے خلاف تھی اور قانون و ریاستی نظم سے جڑی ہوئی تھی۔
جنگ، نقل مکانی اور دیہی تسلسل
لڑائی بڑھنے پر خاندان بے گھر ہوئے اور گھروں کو نقصان پہنچا، مگر جہان زیب خان نے خاندانی ربط، آبائی زمین سے وابستگی اور واپسی کے یقین کو برقرار رکھنے میں کردار ادا کیا۔
یہ تسلسل اسی قیادت کا حصہ تھا جو دفاع، تنظیم اور بحالی سے وابستہ تھی۔
بھائیوں کی تکمیلی قیادت
جہان زیب خان عبدالرشید خان کے بڑے بھائی تھے۔ جہان زیب خان کو بزرگانہ رہنمائی، تنظیم اور تسلسل کے ساتھ یاد کیا جاتا ہے، جبکہ عبدالرشید خان فعال دفاع، وائٹ ہاؤس، عوامی نمائندگی اور قومی اعزاز سے نمایاں ہوتے ہیں۔
سلطانواس کی تاریخ تب زیادہ مکمل اور درست نظر آتی ہے جب دونوں بھائیوں کو ایک ہی شہری کوشش کا حصہ سمجھا جائے۔
دائمی میراث
ان کی میراث قومی لشکر کی تنظیم، پولیس کے ساتھ تعاون، جرگہ، زمین کی نگہداشت اور نقل مکانی کے دوران تسلسل پر مشتمل ہے۔
ان کی اولاد کی مسلسل شہری اور قانونی موجودگی اس قیادت کے طویل المدتی اثر کو ظاہر کرتی ہے۔
یہ ریکارڈ سلطانواس کے خاندانی اور اجتماعی آرکائیو کا حصہ ہے۔